رقص حیات (اگست 2020) - کووڈ 19 کے موضوع پر نظم

دانش و فہم کو آئینہ دکھا آئی ہے
حشر سے پہلے ہی اک حشر اٹھا لائی ہے
یہ کیسی وبا آئی ہے
شہر سنسان ہوئے گاؤں بھی ویران ہوئے
مضطرب ایسے تو شاید کبھی انسان ہوئے
سب پریشان ہوئے
سب پریشان ہوئے
ہو وہ حاکم کہ غریب
یا ہو شاعر کہ ادیب
کوئی واعظ کہ خطیب
اور تو اور طبیب!
سبھی حیران ہوئے سارے پریشان ہوئے
موت جو چُھپتی چُھپاتی ہوئی آجاتی تھی
دندناتی ہوئی پھرتی ہے گلی کوچوں میں
منہ چھپائے ہوئے پھرتی ہے حیات
نہ دوا ہے نہ مُداوا نہ مسیحا کوئی
ہر نفَس ڈھونڈتی پھرتی ہے سہارا کوئی
راہ نکلے تو خدایا کوئی
قربتیں خواب ہوئیں
محفلیں نایاب ہوئیں
لوگ اب اپنے ہی سایہ سے جدائی چاہیں
حبسِ بے جا سے رہائی چاہیں
مگر اتنا بھی فسردہ دلِ شاعر کیوں ہو
سب گزر جاتے ہیں یہ دن بھی گزر جائیں گے
سیرِ ہستی تو یہیں ختم نہیں
اک ذرا تھم کے چلے گی پھر سے
بزمِ یاراں بھی سجے گی پھر سے
تھک کے رک جائے گا یہ موت کا تانڈَو اک دن
زندگی رقص کرے گی پھر سے
زندگی رقص کرے گی پھر سے