دل کے اک داؤ میں سب کچھ جو نہ ہارے ہوتے

دل کے اک داؤ میں سب کچھ جو نہ ہارے ہوتے
زندگی ہم نے ترے قرض اتارے ہوتے
نہ مخالف کوئی ہوتا نہ تصادم نہ تضاد
ہم اگر اپنے اصولوں کے نہ مارے ہوتے
ہم نے ہی اونچی اڑانوں کا سفر ترک کیا
ورنہ قدموں کے تلے چاند ستارے ہوتے
زندگی بانٹ نہ دیتی جو ہمیں خانوں میں
ہم تمہارے بخدا! سارے کے سارے ہوتے
خوش امیدی کا بھلا ہو کہ جیے جاتے ہیں
ورنہ جیتے نہیں، دن رات گزارے ہوتے
ہم کہ ناواقفِ آدابِ وفا تھے ورنہ
دل پہ جو وار ہوئے، اور کرارے ہوتے
اب وہی دل میں اترنے لگے رفتہ رفتہ
جو نظر میں نہ سماتے تھے تمہارے ہوتے
چند لمحے بھی جو مِل جاتے جنہیں اپنا کہیں
ہم نے وہ لمحے کئی بار گزارے ہوتے
ہے شکایت تو بجا سیؔف! مگر کیا کیجے
ہم جو اپنے نہ ہوئے کیسے تمہارے ہوتے

پہلے نوچے گئے بال و پر

پہلے نوچے گئے بال و پر
پھر مِلا ہم کو حکمِ سفر
کر کے کانٹوں سے صرفِ نظر
پھول چنتے رہے عمر بھر
پتھروں کا اگر خوف تھا
پھر تو رہتے یونہی بےثمر
صبح کے منتظر سو گئے
جب قریب آگئی تھی سحر
لطف آتا ہے ٹکراؤ میں
ہو مخالف اگر معتبر
کچھ تو احباب تھے تاک میں
اور کچھ ہم رہے بے خبر
ایک پل تھا ترا التفات
خواب دیکھے گئے عمر بھر
بانٹ کر سب میں لطف و کرم
ہم سے کہنے لگے صبر کر!
وقت ٹھہرا ہوا ہے وہیں
تم گئے تھے جہاں چھوڑ کر
جس میں تابِ نظارہ نہ ہو
کیا کریں لے کے ایسی نظر
سیؔف اسیرانِ شب کے لیے
کیا سحر، کیا دلیلِ سحر

اپنی آنکھوں میں کسی خواب کا منظر رکھنا

اپنی آنکھوں میں کسی خواب کا منظر رکھنا
پھر اُسے سب کی نگاہوں سے بچا کر رکھنا
لاکھ رنجش ہو تعلق کو بنا کر رکھنا
روز ملنا نہ سہی، رابطہ اکثر رکھنا
صحن کے بیچ میں دیوار ضروری ہو اگر
ایسا کرلینا کہ دیوار میں اک در رکھنا
اِتنا آسان نہیں جتنا سمجھتے ہیں لوگ
خشک آنکھوں میں سمندر کو چھپا کر رکھنا
اب اسی شرط پہ جینے کی اجازت ہے ہمیں
قتل بھی ہونا اور الزام بھی خود پر رکھنا
دشمنی میں بھی ہمارے ہیں کچھ آداب و اصول
وار پیچھے سے نہیں ہوگا یہ لکھ کر رکھنا
اوڑھ کر چادرِ احساس جو رہتے ہو سیؔف
گھر سے نکلو تو اسے گھر کے ہی اندر رکھنا

وہ تعلق جو بِلا شرط نبھایا جائے

وہ تعلق جو بِلا شرط نبھایا جائے
اُس تعلق کو سر آنکھوں پہ بٹھایا جائے
زخمِ دل ہم نے دکھانا نہیں چاہا ورنہ
یہ کوئی عیب نہیں ہے جو چھُپایا جائے
گرنے والے کو اٹھانا بھی ہے نیکی لیکن
بات جب ہے اُسے گرنے سے بچایا جائے
بیٹھنا اگلی صفوں میں تو ذرا دھیان رہے
آپ کو اپنی جگہ سے نہ اٹھایا جائے
فیصلہ ترکِ تعلق کا ہوا ہے لیکن
یہ کوئی عہد نہیں ہے جو نبھایا جائے
خوابِ غفلت سے کہیں جاگ نہ جائیں ہم لوگ
اک حسیں خواب ہمیں اور دکھایا جائے
اک نیا مسئلہ درپیش ہے، اور وہ یہ ہے
ذہن کو کیسے مسائل سے ہٹایا جائے
دل کا ملنا تو نصیبوں سے ہُوا کرتا ہے
کم سے کم ہاتھ کھلے دل سے ملایا جائے
چائے تو چائے ہے ہم زہر بھی پی لیں گے سؔیف
شرط یہ ہے کہ محبت سے پِلایا جائے

دل کو جو دکھ نہ دے ایسا کوئی منظر ہوتا

دل کو جو دکھ نہ دے ایسا کوئی منظر ہوتا
یا مرا دل نہیں ہوتا کوئی پتھر ہوتا
کاش چادر مری کچھ اور کشادہ ہوتی
یا مرا قد مری چادر کے برابر ہوتا
تھی اُدھر ضد تو اِدھر مدمقابل تھی انا
ورنہ دیوار جہاں پر ہے وہاں در ہوتا
درمیاں کی اِسی صورت نے مجھے مار دیا
بُت نہ ہوتا نہ سہی راہ کا پتھر ہوتا
ایک قطرہ تھا تو چاہا کہ میں دریا ہو جاؤں
آج دریا ہوں تو خواہش ہے سمندر ہوتا
دل کا وہ زخم تو ماضی کا حوالہ تھا سؔیف
وقت بھرتا نہ اگر اُس کو تو بہتر ہوتا

چل دے کہیں نہ وہ بھی مخالف ہوا کے ساتھ

چل دےکہیں نہ وہ بھی مخالف ہوا کے ساتھ
لازم ہے اپنے لوگ رہیں ناخدا کے ساتھ
دو گام چل کے راہِ طلب سے پلٹ گئے
جاتے بھی کتنی دور ہم اپنی انا کے ساتھ
یہ میری خامُشی ہی دلیلِ شکست ہے
دل آئنہ نہیں ہے جو ٹوٹے صدا کے ساتھ
ہے آبرو اسی میں کہ ثابت قدم رہو
یا تو دیے کے ساتھ رہو یا ہوا کے ساتھ
یہ شاعری ہے دوست کوئی دل لگی نہیں
جوشِ جنوں بھی چاہیے فکرِ رسا کے ساتھ
آیا نہیں غزل میں کسی بے وفا کا ذکر
اچھی گزر رہی ہے جو اک با وفا کے ساتھ
اے عرش اب تو بندۂ عاجز کی لاج رکھ
اٹھی ہے دل سے آہ بھی دستِ دعا کے ساتھ
بازار سے خرید کے لے آئیں یار دوست
اکرام بھی ملے جو عبا و قبا کے ساتھ
دنیا کو بے وفا تو کہے جا رہے ہو سؔیف
دیکھے گئے ہیں آپ اُسی بے وفا کے ساتھ

کھُلی جو آنکھ تو نوکِ پلک پر آ ٹھہرا

کھُلی جو آنکھ تو نوکِ پلک پر آ ٹھہرا
شکستِ خواب کا احساس جابجا ٹھہرا
بغیر برسے سروں پر ہمارے ابرِ کرم
تمام عمر بھی ٹھہرا اگر تو کیا ٹھہرا
قبول کرلیا ناصح نے میرا عذر مگر
مرا ضمیر ہی میرے خلاف آ ٹھہرا
نہ چھوڑ دیتا فنِ آزری تو کیا کرتا
جو سنگ میں نے تراشا وہی خدا ٹھہرا
سروں پہ بیٹھ بھی جائے تو دھول، دھول رہے
مقام اس کا بہرحال زیرِ پا ٹھہرا
ہجومِ حرف میں صوت و صدا کی بھیڑ میں سؔیف
یہی بہت ہے کہ لہجہ ترا جُدا ٹھہرا

شعورِ آگہی ہے اِبتلا میں

شعورِ آگہی ہے اِبتلا میں
یہی ہوتا ہے شاید ابتدا میں
سوالِ بندگی الجھا ہوا ہے
جواب اس کا ہے لیکن 'ہاں' یا 'نا' میں
مقدر کا لکھا مل تو رہا ہے
مگر کچھ اور ہے میری دعا میں
تھکا ماندا میں شاید لَوٹ جا تا
مگر اک طنز تھا اُس کی صدا میں
نبھاتا بھی اْسے کوئی تو کب تک
بہت سے نَقص تھے عہدِ وفا میں
غرورِ سادگی ہے اور میں ہوں
لگے پیوند ہیں جب سے قبا میں
اثر چارہ گری میں سیؔف کیا ہو
دْعا شامل نہیں ہے اب دوا میں

ہجوم شوق در دل سے شرمسار گیا

ہجومِ شوق درِ دل سے شرمسار گیا
نہال کرنے جو آیا تھا اشکبار گیا
اک اور شب مری ناصح کو جھیلنے میں گئی
فسردہ پھر مرے خوابوں کا قرض دار گیا
بساطِ زیست پہ اپنے تھے سب سیاہ و سفید
میں جیت کر بھی نہ جیتا ، تو پھر میں ہار گیا
نہ آنکھ نم ہوئی اب کے نہ زخم تازہ ہوئے
مری بلا سے اگر موسمِ بہار گیا
دھڑک رہا ہے یہ اب تو ہر ایک آہٹ پر
تھا دل پہ زُعم اب اس کا بھی اعتبار گیا
میں آنکھیں بند کروں پھر بھی تو دکھائی نہ دے!
تو کیا اب اپنا تصور سے اختیار گیا؟
جسے تو ڈھونڈتی آئی ہے زندگی وہ سؔیف
تری تلاش میں نکلا تھا، سوئے دار گیا

تو کیا وہ رنج وہ رنجش بھلا چکا ہوں میں

تو کیا وہ رنج وہ رنجش بھلا چکا ہوں مَیں
بڑے تپاک سے پھر ان سے مل رہا ہوں مَیں
جو لوگ خوش تھے بہت میرے لڑکھڑانے پر
اُنھیں بتاؤ کہ پھر سے سنبھل گیا ہوں میں
اِدھر یہ فکر کہ بولوں تو کھل نہ جائے بات
اُدھر یہ شور کہ خاموش ہو گیا ہوں میں
بدل گیا ہے زمانہ بھی، وقت بھی ، تم بھی
تو کیا عجب جو ذرا سا بدل گیا ہوں میں
خریدنا تو کجا کوئی دیکھتا بھی نہیں
متاعِ خواب لیے پھر بھی گھومتا ہوں میں
سمندر آج ترا ظرف آزمانا ہے
ذرا سی دیر کو پتوار رکھ رہا ہوں میں
زباں قلم نہیں ہوتی تو اور کیا ہوتا
جو بات سچ تھی سرِ عام کہہ گیا ہوں میں