اس نے مجھے روکا نہیں، ایسا بھی نہیں تھا

اُس نے مجھے روکا نہیں، ایسا بھی نہیں تھا
دیکھا جو پلٹ کر تو وہ ٹھہرا بھی نہیں تھا
کیوں نقش ہُوا جاتا ہے احساس پہ میرے
اک چہرہ جسے غور سے دیکھا بھی نہیں تھا
زخموں کی نمائش بھی نہ تھی ہم کو گوارا
اور درد چھپالینے کا یارا بھی نہیں تھا
خوابوں کے تعاقب میں گئی نیند تو کب کی
آنکھیں بھی چلی جائیں گی، سوچا بھی نہیں تھا
کچھ اپنی طلب خام تھی کچھ حکمتِ ساقی
خالی بھی نہ تھا جام، چھلکتا بھی نہیں تھا
تدبیر تو ہر گام پہ سر پھوڑ رہی تھی
تقدیر کے ماتھے پہ پسینہ بھی نہیں تھا
دامن کو سِیا، زخم گنِے، گھر پلٹ آیا
وحشت کا مری اہل تو صحرا بھی نہیں تھا
کیوں ضبطِ فغاں پر ہے بڑا ناز تجھے سیؔف
کرتا بھی تو کیا، اور تو چارہ بھی نہیں تھا