رہِ طلب میں گوارا نہ تھی پشیمانی

رہِطلبمیںگوارانہتھیپشیمانی
بچانہپائےمگرخودکوفتنہخیزوںسے
جوہوتےسنگمقابلتوکوئیباتبھیتھی
یہکیاکہچوٹبھیکھائیتوسنگریزوںسے

احسان تو کرتے ہیں جتا دیتے ہیں (رباعی)

کچھ لوگ عمارت تو بنا دیتے ہیں
پھر خود ہی اسے آگ لگا دیتے ہیں
یہ تو ہے مثال سؔیف ایسوں کی جو
احسان تو کرتے ہیں جتا دیتے ہیں

کر فکر وہاں کی جہاں رہنا ہے مُدام (رباعی)

خوشیاں کبھی ہوں گی کبھی ہوں گے آلام
جیسے بھی ہو کٹ جائیں گے یہ صبح و شام
کیوں عمرِ دو روزہ کی تجھے فکر ہے سؔیف
کر فکر وہاں کی جہاں رہنا ہے مُدام

یا پھر مجھے تقدیر پہ شاکِر کردے (رباعی)

اک ذرۂ ناچیز کو نادِر کر دے
تو چاہے تو عاجز کو بھی قادِر کر دے
کردے مری تقدیر درخشاں مولا
یا پھر مجھے تقدیر پہ شاکِر کر دے

آقا ؐ کے غلاموں کی غلامی کرلے (رباعی)

اک لمحۂ نسبت کو دوامی کرلے
کام ایسا کوئی سؔیف نظامی کرلے
ہوں گے ترے قدموں میں پڑے تاج و کلاہ
آقا ؐ کے غلاموں کی غلامی کرلے

ہم سہل سمجھتے تھے رباعی کہنا (رباعی)

مشکل ہے کوئی بات نِرالی کہنا
پھر اُس پہ بہ طرزِ دلربائی کہنا
ہِل جاتی ہیں دماغ کی چولیں سؔیف
ہم سہل سمجھتے تھے رُباعی کہنا

سب دیکھ رہے ہوں تو تبھی دیتے ہیں (رباعی)

دینے کو تو خیرات سبھی دیتے ہیں
درپردہ کبھی ، کُھل کے کبھی دیتے ہیں
کچھ اہلِ سخاوت ہیں ایسے بھی سؔیف
سب دیکھ رہے ہوں تو تبھی دیتے ہیں

اس قوم کو مُردار پہ مرتے دیکھا (رباعی)

اقدار کا شیرازہ بکھرتے دیکھا
کردار کو خودکُشی کرتے دیکھا
منصب ہے جس قوم کا تجدیدِ حیات
اُس قوم کو مُردار پہ مرتے دیکھا

محسن پہ ہی احسان کِیا ہو جیسے (رباعی)

پورا کوئی پیمان کِیا ہو جیسے
یا درد کا درمان کِیا ہو جیسے
ممنون بھی ہوتےہیں کچھ اِس طرح سے لوگ
محسن پہ ہی احسان کِیا ہو جیسے

اغیار کے لہجے کی درُشتی اچھی (رباعی)

ہرچند کہ نیت نہیں ہوتی اچھی
باتیں کرتے ہیں لیکن اچھی اچھی
احباب کی جھوٹی انکساری سے سؔیف
اغیار کے لہجے کی درُشتی اچھی

کرتا ہوں گناہ، رہتا شرمندہ ہوں (رباعی)

ہر لمحہ غرق فکرِ آئندہ ہوں
خوف اور رِجا کے بیچ مَیں زندہ ہوں
رِفعت ہو مری کیوں نہ ملک سے افزوں
کرتا ہوں گناہ ،رہتا شرمندہ ہوں

وہ جن کی صبحیں نکلتی ہوں رات اوڑھے ہوئے

وہ جن کی صبحیں نکلتی ہوں رات اوڑھے ہوئے
وہ دن ہمیں کبھی تسلیم ہو نہیں سکتے
جو نفرتوں کو ہوا دیں دلوں کو دور کریں
وہ لوگ قابل تعظیم ہو نہیں سکتے
اُنھیں بتاؤ کہ ہم اُن کی ضربِ پیہم سے
بکھر تو سکتے ہیں، تقسیم ہو نہیں سکتے

آپ کی محفل میں ہم کچھ شعر لے کر آئے ہیں

آپ کی محفل میں ہم کچھ شعر لے کر آئے ہیں
قصۂ عشق و جنوں منظوم کر کے لائے ہیں
دل کی ساری حالتیں رکھ دی ہیں ان کے درمیاں
درد و غم لفظوں کے پیکر میں چُھپا کر لائے ہیں

کتنی تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں روز و شب

کتنی تیزی سے بدلتے جارہے ہیں روز و شب
اور یہ اندازِ تبدیلی کوئی اچھا نہیں
اے خدا! یہ دَور کیسا آگیا جس دَور میں
سینکڑوں فرعون ہیں اور ایک بھی موسیٰ نہیں

تیری تقریر سے خوشبو سی مہک جاتی ہے

تیری تقریر سے خوشبو سی مہک جاتی ہے
تیری تحریر سے تہذیب جِلا پاتی ہے
ہم سخن ! سہل نہیں وارثِ اردو ہونا
ناز کر ناز کہ تجھ کو یہ زباں آتی ہے

فن شیشہ گری سیکھا نہ تیشہ ہی اٹھا پائے

فنِ شیشہ گَری سیکھا نہ تیشہ ہی اٹھا پائے
نہ کرتے لفظ آرائی تو ہم جانے کہاں ہوتے
نہ دنیا ہی ملی ہم کو نہ ہم دنیا کے ہو پائے
سخن نے لاج رکھ لی ورنہ ہم تو رائیگاں ہوتے

رہگزاروں میں جلے، طاق کی زینت نہ بنے

آسمانوں سے کہیں اونچی اڑانیں ہیں مگر
خود کی پرواز پہ خود ہم کو گماں تو کیا
میں جو خاموش رہا، درد کی حد تھی "ساحر"
آرزوؤں کو وفا کا آسماں تو کیا