اب کیا غزل سناؤں

اب کیا غزل سناؤں
منظر دھواں دھواں ہے
آنکھیں سلگ رہی ہیں
دل خون رو رہا ہے
پلکوں سے چھن رہا ہے
دامن بھگو رہا ہے
کچھ نقش بن رہے ہیں
کچھ لفظ ابھر رہے ہیں
میں ان کو چن رہا ہوں
اک خواب بُن رہا ہوں
ہر خواب ٹوٹتا ہے
ٹوٹے گا یہ بھی آخر
پھر کرچیاں جب اس کی
احساس میں چبھیں گی
تب میں غزل کہوں گا
پھر تم اسے سنو گے
پھر واہ واہ ہوگی
پھر تالیاں بجیں گی

حمد - تری حمد و ثنا پروردگارا

تری حمد و ثنا پروردگارا
سلام اسؐ پر جو ہے تیرا دُلارا
تجھے ہم کیا بتائیں حال اپنا
دلوں کے بھید تجھ پر آشکارا
امیدِ مغفرت، آنسو، ندامت
یہی سب کچھ اثاثہ ہے ہمارا
تری رحمت کے صدقے، روزِ محشر
ہماری لاج رکھ لے کِردگارا
تجلی، نور، جلوہ، دید، چلمن
نظر، ذوقِ نظر، تابِ نظارا
مسافت، حوصلہ، منزل، مسافر
تلاطُم، ناخدا، کَشتی، کِنارا
صبا، خوشبو، دھنک، بادِبہاری
سَمن، نرگس، گل و گلزار سارا
غرض جو کچھ بھی جیسا بھی جہاں ہے
وہ سب تیرا ہے اور تو ہے ہمارا

نعت شریف - باعث کن فکاں والی بحر و بر سب کہا جا چکا نعت میں کیا کہوں

باعثِ کُن فکاں، والیئ بحر و بر،سب کہا جاچکا نعت مَیں کیا کہوں
نازشِ مْرسَلاں،رشکِ شمس و قمر،سب کہا جاچکا نعت مَیں کیا کہوں
ہیں محبِ خدا آپؐ محبوب بھی، ہے رضا آپؐ کی رب کو مطلوب بھی
نورِ محجوب ہیں آپؐ مثلِ بشر، سب کہا جاچکا نعت میں کیا کہوں
نعت گو ہے خدا نعت خواں جبرئیل، مدح گو آپؐ کے انبیائے جلیل
میں بھی مقدور بھر کچھ تو کہتا مگر، سب کہا جاچکا نعت میں کیا کہوں
جو کہا جا چکا جو سنا جا چکا، اس کو دہراؤں میں فیض بھی پاؤں میں
پھر کہوں جان سرکارؐ پر وار کر، سب کہا جاچکا نعت میں کیا کہوں
لفظ بے بس تخیّل بھی ویران ہے، سیؔف تیرا تکلم بھی حیران ہے
کہہ دْرود و سلام آپؐ پر بھیج کر سب کہا جاچکا نعت میں کیا کہوں

نعت - وفورِ عشق نے اظہار کی جب التجا کی ہے

وفورِ عشق نے اظہار کی جب التجا کی ہے
قلم نے سر جھکا کر مدحتِ خیرالوریٰؐ کی ہے
محمدؐ بھی ہیں وہ محمودؐ بھی ہیں اور احمدؐ بھی
خدا کے بعد سب تعریف محبوبِ خدا کی ہے
فرشتوں کے فرشتے بھی نہ سمجھے، آپ ہم کیا ہیں
خدا ہی جانتا ہے کیا حقیقت مصطفےٰؐ کی ہے
وجودِ آب و گِل سے پیشتر تخلیق ہو جس کی
میں کس منہ سے کہوں وہ پیکرِ انوار، خاکی ہے
وہ ربّ العالمیں، یہ رحمت اللعالمیں ہیں سیؔف
وہاں رحمت ہے آقاؐ کی جہاں قدرت خدا کی ہے

رقص حیات (اگست 2020) - کووڈ 19 کے موضوع پر نظم

دانش و فہم کو آئینہ دکھا آئی ہے
حشر سے پہلے ہی اک حشر اٹھا لائی ہے
یہ کیسی وبا آئی ہے
شہر سنسان ہوئے گاؤں بھی ویران ہوئے
مضطرب ایسے تو شاید کبھی انسان ہوئے
سب پریشان ہوئے
سب پریشان ہوئے
ہو وہ حاکم کہ غریب
یا ہو شاعر کہ ادیب
کوئی واعظ کہ خطیب
اور تو اور طبیب!
سبھی حیران ہوئے سارے پریشان ہوئے
موت جو چُھپتی چُھپاتی ہوئی آجاتی تھی
دندناتی ہوئی پھرتی ہے گلی کوچوں میں
منہ چھپائے ہوئے پھرتی ہے حیات
نہ دوا ہے نہ مُداوا نہ مسیحا کوئی
ہر نفَس ڈھونڈتی پھرتی ہے سہارا کوئی
راہ نکلے تو خدایا کوئی
قربتیں خواب ہوئیں
محفلیں نایاب ہوئیں
لوگ اب اپنے ہی سایہ سے جدائی چاہیں
حبسِ بے جا سے رہائی چاہیں
مگر اتنا بھی فسردہ دلِ شاعر کیوں ہو
سب گزر جاتے ہیں یہ دن بھی گزر جائیں گے
سیرِ ہستی تو یہیں ختم نہیں
اک ذرا تھم کے چلے گی پھر سے
بزمِ یاراں بھی سجے گی پھر سے
تھک کے رک جائے گا یہ موت کا تانڈَو اک دن
زندگی رقص کرے گی پھر سے
زندگی رقص کرے گی پھر سے