اب کیا غزل سناؤں

اب کیا غزل سناؤں
منظر دھواں دھواں ہے
آنکھیں سلگ رہی ہیں
دل خون رو رہا ہے
پلکوں سے چھن رہا ہے
دامن بھگو رہا ہے
کچھ نقش بن رہے ہیں
کچھ لفظ ابھر رہے ہیں
میں ان کو چن رہا ہوں
اک خواب بُن رہا ہوں
ہر خواب ٹوٹتا ہے
ٹوٹے گا یہ بھی آخر
پھر کرچیاں جب اس کی
احساس میں چبھیں گی
تب میں غزل کہوں گا
پھر تم اسے سنو گے
پھر واہ واہ ہوگی
پھر تالیاں بجیں گی