بڑی مشکلوں سے ٹھہرا دل مضطرب ہمارا

بڑی مشکلوں سے ٹھہرا دلِ مضطرب ہمارا
ائے خیالِ دوست اس کو نہ بکھیرنا دوبارا
مرے ڈوبنے ابھرنے پہ یہ تبصرے کہاں تک
ذرا پاس آکے دیکھو کبھی چھوڑ کر کنارا
نہ یہ دامنِ طلب ہے نہ یہ کاسۂ گدائی
یہ کہاں سے بھر سکے گا یہ ہے زخمِ دل ہمارا
کبھی اُس کی لاج رکھ لی، کبھی دل کی بات مانی
کبھی جیت کر نہ جیتا، کبھی ہار کر نہ ہارا
کہا آنکھ نے زباں سے یہ ہے ظرف اپنا اپنا
تو نے کھل کے بات کہہ دی میں نے کردیا اشارا
جسے حُسن ہم نے سمجھا وہ ہے عکس حالِ دل کا
ہو سکونِ دل میسر تو حسیں ہے ہر نظارا
ہمیں نقشِ رفتگاں بھی ہیں بہت عزیز لیکن
ذرا اُن سے مختلف ہی رہا راستہ ہمارا