جب سے در پر ترے مصروفِ جبیں سائی ہوں

جب سے در پر ترے مصروفِ جبیں سائی ہوں
دیکھتا وقت کی آنکھوں میں پزیرائی ہوں
عمر گزری ہے ترے ساتھ مگر ائے دنیا!
اب بھی لگتا ہے کہ محتاجِ شَناسائی ہوں
اک ذرا آنکھ سے پردہ جو اٹھا ہے تو کُھلا
میں ہی کردار ہوں اور میں ہی تماشائی ہوں
کتنے انداز بدلتا ہوں میں تیری خاطر
کبھی دانا، کبھی ناداں ، کبھی سودائی ہوں
معتبر لاکھ سہی میری خموشی لیکن
گونگے لفظوں کے لیے طالبِ گویائی ہوں
شمعِ ہستی ہوں ، مہ و مہر نہیں ائے دنیا!
بجھ بھی جاؤں تو تری بزم کی رعنائی ہوں
میرے اشعار مرے عہد کا آئینہ ہیں
اگلی نسلوں کے لیے سؔیف! میں بینائی ہوں