دلِ تباہ کو اندیشۂ ضرر کیوں ہے

دلِ تباہ کو اندیشۂ ضرر کیوں ہے
سفر تمام ہوا خوفِ رہ گزر کیوں ہے
ہے وحشتوں کو شکایت کہ میرا گھر کیوں ہے
چلو جو ہے بھی تو دیوار میں یہ در کیوں ہے
ابھی نگاہ تھی خیرہ بدل گیا منظر
طویل شب کی سحر اتنی مختصر کیوں ہے
میں ناصبور نہیں ہوں مگر یہ فکر مجھے
ترے کرم سے مری آہ پیشتر کیوں ہے
سوال یہ نہیں صحرا میں کیوں ہیں فرزانے
سوال یہ ہے کہ دیوانہ در بہ در کیوں ہے
مُجھی سے پوچھ رہا ہے مرے جنوں کا سبب
یہ دل بھی تیری طرح مجھ سے بے خبر کیوں ہے
ہے عزم تیرا مصمم نگاہ منزل پر
تو سیؔف پھر تجھے اندیشۂ سفر کیوں ہے