حسرتیں اور بڑھیں خواہشِ ناکام کے بعد

حسرتیں اور بڑھیں خواہشِ ناکام کے بعد
اور دلچسپ کہانی ہوئی انجام کے بعد
ہم ہی بیگار نہیں پیشۂ دلداری میں
کسی مزدور کو اجرت نہ ملی کام کے بعد
تشنہ کامی سے کہو حوصلہ ہارے نہ ابھی
گردشِ جام بھی ہے گردشِ ایام کے بعد
درد اظہار کے پیرائے بدلتا ہی رہا
دل کے اک شکوۂ یکسانئ آلام کے بعد
گھونٹ دو گھونٹ تو ہر کوئی پچا لیتا ہے
فیصلہ ظرف کا ہو جائے گا دو جام کے بعد
کیسے آتی ہے قیامت یہ سنا تو ہوگا
دیکھنا ہو تو چلے آؤ کبھی شام کے بعد
ایسے اعزاز و مراعات سے توبہ جن میں
طوق و زنجیر ملیں جامۂ اکرام کے بعد
اُس خریدار کے قرباں جو مرا مالِ حقیر
لے کے انعام بھی دیتا ہے مجھے دام کے بعد
خشک ہونٹوں پہ زباں پھیر تو لیتا لیکن
کون شرمندہ رہے خشکیئ ایام کے بعد
سؔیف یہ کیا کہ ہمہ وقت ہو مصروفِ سخن
شاعری کرتے تو ہم بھی ہیں مگر کام کے بعد