ہم اہل ظرف یہ کیسا تضاد رکھتے ہیں

ہم اہلِ ظرف یہ کیسا تضاد رکھتے ہیں
دلوں پہ زخم ہیں ، چہروں کو شاد رکھتے ہیں
ہواؤں پر ہی نہ الزامِ سرکشی رکھنا
چراغ بھی تو ہوا سے عِناد رکھتے ہیں
تمام عمر کے احسان بھول کر کچھ لوگ
ذرا سی بھول ہو ہم سے تو یاد رکھتے ہیں
کسی کی یاد کے جگنو، تھکن، ادھورے خواب
ہم اپنی پلکوں پہ کیا کیا نہ لاد رکھتے ہیں
یہ اور کچھ نہیں سؔیف انکسار ہے اُن کا
جو اپنے آپ کو غاؔلب کے بعد رکھتے ہیں