کار جنوں کیا تو مسلسل نہیں کیا

کارِ جنوں کِیا تو مسلسل نہیں کیا
ہم نے کوئی بھی عشق مکمل نہیں کیا
وہ بھی بچھڑتے وقت با ہوش و حواس تھا
میں نے بھی اپنے آپ کو پاگل نہیں کیا
تنہا ہوئے تو درد کے چشمے بہا لیے
آنکھوں کو سب کے سامنے جل تھل نہیں کیا
جب اُن سے داد پہلے ہی مصرع پہ مل گئی
میں نے بھی اپنا شعر مکمل نہیں کیا
گردِ زمانہ آئینے دھندلا گئی مگر
آنکھوں سے تیرے عکس کو اوجھل نہیں کیا
صدمہ نیا ملا تو پرانا بُھلا دیا
دل کو کسی ملال نے بوجھل نہیں کیا
اب دل ہے بے قرار تو اس بات پر ہے سؔیف
کیوں آج اُس کی یاد نے بیکل نہیں کیا