جب حرف ضبط نوکِ قلم سے نکل گیا

جب حرفِ ضبط نوکِ قلم سے نکل گیا
رنگِ سیاہ جبر کے چہرے پہ مَل گیا
اچھا ہوا کہ دوست نگاہیں بدل گیا
پیچھے سے وار ہونے کا خطرہ تو ٹل گیا
پتھر کی لاج بھی رکھی اپنا وقار بھی
ٹھوکر بھی میں نے کھائی مگر پھر سنبھل گیا
افواہ تھی کہ آئینے سچ بولنے لگے
آئینہ ساز کا تو کلیجہ نکل گیا
بدلی ذرا جو وقت کی لَے، لڑکھڑا گئے
پھر زندگی کے رقص کا محور بدل گیا
ٹوٹا کہاں ہے اپنی امیدوں کا سلسلہ
جب اک چراغ گُل ہُوا اک اور جل گیا
میں جانتا تھا خواب بہر حال خواب ہے
لیکن ذرا سی دیر کو جی تو بہل گیا
کچھ تیری جستجو تھی کچھ اپنی تلاش تھی
سو میں حصارِ ذات سے باہر نکل گیا
پندار کی کمی ہے کہ اقدار کا زوال
رسّی ابھی جلی ہی نہیں بل نکل گیا
پھر یہ ہُوا کہ اُس نے مری بات مان لی
پھر یہ ہُوا کہ میرا ارادہ بدل گیا
فکر و نظر کو دے گیا احساسِ تازگی
محفل سے جب بھی سؔیف سنا کر غزل گیا