رونقِ بزم یوں بڑھا دینا

رونقِ بزم یوں بڑھا دینا
شمع کے ساتھ دل جلا دینا
عقلِ دانا کو کوسنا پہلے
بعدِ وحشت اْسے دعا دینا
پھر تمنا نے سر اٹھا یا ہے
مدفنِ دل میں پھر دبا دینا
نغمۂ دل سنوارنے کے لئے
تارِ دامن ذرا کھنچا دینا
سیؔف وہ دن بھی یاد ہیں اب تک
کوئی موسم ہو گل کھلا دینا