کر فکر وہاں کی جہاں رہنا ہے مُدام (رباعی)

خوشیاں کبھی ہوں گی کبھی ہوں گے آلام
جیسے بھی ہو کٹ جائیں گے یہ صبح و شام
کیوں عمرِ دو روزہ کی تجھے فکر ہے سؔیف
کر فکر وہاں کی جہاں رہنا ہے مُدام