یا پھر مجھے تقدیر پہ شاکِر کردے (رباعی)

اک ذرۂ ناچیز کو نادِر کر دے
تو چاہے تو عاجز کو بھی قادِر کر دے
کردے مری تقدیر درخشاں مولا
یا پھر مجھے تقدیر پہ شاکِر کر دے