کرتا ہوں گناہ، رہتا شرمندہ ہوں (رباعی)

ہر لمحہ غرق فکرِ آئندہ ہوں
خوف اور رِجا کے بیچ مَیں زندہ ہوں
رِفعت ہو مری کیوں نہ ملک سے افزوں
کرتا ہوں گناہ ،رہتا شرمندہ ہوں