خدا سے ہم نے تعلق بحال رکھا ہے

خدا سے ہم نے تعلق بحال رکھا ہے
جواب آئے نہ آئے، سوال رکھا ہے
چُھپا کر اہلِ جہاں سے ملال رکھا ہے
ترے حضور مگر دل کا حال رکھا ہے
نہ شوخیاں ہمیں راس آئیں اور نہ سادہ دلی
سو اپنے آپ کو اب حسبِ حال رکھا ہے
تم اپنے خوابِ شکستہ اٹھا تو لائے مگر
یہاں بھی کونسا دستِ کمال رکھا ہے
جلے کہ اب یہ بجھے، خوفِ تیرگی تو مٹے
چراغ ہم نے ہوا میں اُچھال رکھا ہے
حقیقتوں کے لیے اب جگہ کہاں دل میں
کہیں پہ خواب کہیں پر خیال رکھا ہے
نصیب ہے تو کبھی حال سے بھی گزریں گے
ابھی تو مرحلۂ قیل و قال رکھا ہے
کبھی جو تم نے لکھا تھا کہ بھول جاؤں تمہیں
بُھلا چکا ہوں مگر خط سنبھال رکھا ہے
ہمارا ذکر بھی اہلِ وفا کے باب میں سؔیف
ورَق ورَق نہ سہی خال خال رکھا ہے