خواب آنکھوں سے کچھ بڑا ہونا

خواب آنکھوں سے کچھ بڑا ہونا
دل حقیقت سے آشنا ہونا
ٹوٹ کر ملنا پھر جدا ہونا
پھر کہیں اور مبتلا ہونا
ریزہ ریزہ سمیٹنا خود کو
اور بکھرنا تو جا بجا ہونا
نارسائی سے لاکھ بہتر ہے
میرا ہر لفظ بے صدا ہونا
آپ کچھ بھی کہیں، بشر کے لیے
عیب ہوتا ہے بے خطا ہونا
تیرے حق میں نہیں ائے غیرتِ دل
درد کا درپئے دوا ہونا
بندگی کا جنھیں شُعور نہیں
چاہتے وہ بھی ہیں خدا ہونا
لوگ کہتے ہیں، اُن کو کہنے دو
تم مگر میرے ہمنوا ہو نا؟
قید بھی کہہ رہے ہیں دنیا کو
چاہتے بھی نہیں رہا ہونا
سؔیف کو ہے شرَف سخن میں بھی
خلَفِ حضرتِ بؔقا ہونا