اہلِ زباں رہے نہ وہ اہلِ قلم رہے

اہلِ زباں رہے نہ وہ اہلِ قلم رہے
اب ہم ہیں انجمن میں ، ہمارا بھرم رہے
رُوداد فرقتوں کی کہیں تو رقم رہے
دامان تر رہے نہ رہے، آنکھ نم رہے
کچھ ہم بھی سادہ لوح تھے باتوں میں آگئے
کچھ آپ اپنی بات پہ قائم بھی کم رہے
آئے ہیں دیر سے مگر آ تو گئے ہیں ہم
مت پوچھیے کہ راہ میں کیا پیچ و خم رہے
کچھ لوگ آشنائی سے آگے نہ بڑھ سکے
یہ اور بات ہے کہ ہمیشہ بہم رہے
لکھتا رہوں حکایتِ آشوبِ شہرِ جاں
جب تک رواں قلم رہے، لفظوں میں دم رہے
کیا فکر کیجیئے کہ ہُوا کیا ہمارے بعد
محفل بڑی حسین تھی جب تک کہ ہم رہے