تیرے ممنون گر نہیں ہوتے

تیرے ممنون گر نہیں ہوتے
دل ترے بوجھ ہم نہیں ڈھوتے
ہم بھی ہوجاتے مصلحت اندیش
لب ہلاتے نہ یاریاں کھوتے
کیا انھیں صبح کا یقین نہیں؟
خواب کیوں رات بھر نہیں سوتے
وہ تو اک فعلِ اضطراری تھا
ہم شہادت پہ دل کی کب روتے
پتھروں کا جو خوف ہے تم کو
مگر پھر تو بہتر تھابے ثمر ہوتے
یادگارِ جنوں ہیں روح کے زخم
اشک سے ہم انھیں نہیں دھوتے
فصلِ دل پھر سے لہلہاتی مگر
کون اس ریگ زار کو جوتے
خواب پلکوں پہ آکے لوٹ گئے
سیؔف! یوں بے خبر نہیں سوتے