ہم کہ یوں جذبۂ منزل کو جِلا دیتے ہیں

ہم کہ یوں جذبۂ منزل کو جِلا دیتے ہیں
جب بھی تھک جاتے ہیں رفتار بڑھا دیتے ہیں
ہم تو گرتے ہیں سنبھلتے ہیں ہمارا کیا ہے
آپ کیوں خود کو ندامت کی سزا دیتے ہیں
ایک دُزدیدہ نظر دل کے لہو ہونے پر
کس ادا سے وہ ہمیں خون بہا دیتے ہیں
شاخ سے ٹوٹ کے ہم کو تو بکھر جانا تھا
ہیں شگفتہ کہ ہمیں پیڑ دعا دیتے ہیں
کارواں درد کے نکلے ہیں بھٹکنے کے لئے
میرِ ناداں انھیں منزل کا پتہ دیتے ہیں
آگ خود اپنے نشیمن کو لگائی ہم نے
اہلِ گلشن تو اسے صرف ہوا دیتے ہیں