اب تُو ہی بتا ائے وحشتِ دل ہم کیسے تجھے رسوا کرتے

اب تُو ہی بتا ائے وحشتِ دل ہم کیسے تجھے رسوا کرتے
تھی شرطِ جنوں دل چاک کریں پھر چاک گریباں کیا کرتے
ہم اہلِ تذبذب ساحل پر اندازۂ طوفاں کرتے رہے
اُس پار اتر بھی جاتے گر، کَشتی کو سُپردِ خدا کرتے
ہم میں تو بصیرت کم تھی مگر ، تھے ساتھ ہمارے اہلِ نظر
ہر موڑ پہ وہ ہم سے ہی مگر انجامِ سفر پوچھا کرتے
کہنا تو بہت کچھ تھا اُس سے ، جب جا پہنچے اس کے در پے
ہم محوِ نظارہ ہو بیٹھے اب عرضِ تمنا کیا کرتے
یہ بزمِ طرب دلچسپ سہی ، ہر ساز یہاں دلکش ہی سہی
جب چھوڑ کے جانا ہی ٹھہرا پھر دل کو لگا کر کیا کرتے