نیند کیوں آ رہی ہے فرقت میں

نیند کیوں آ رہی ہے فرقت میں
کیا کسَر رہ گئی محبت میں
ہم تو عادی ہیں سخت راہوں کے
آپ مارے گئے مروت میں
عشق فرمائیں یا کہ کام کریں
کیا کریں چار دن کی مہلت میں
جو بھی تعبیر ہے غنیمت ہے
خواب دیکھا گیا تھا عجلت میں
اتنا وقفہ تو حادثوں میں رہے
زخم بھرتے ہیں جتنی مدت میں
بیتی صدیوں سے لمحہء موجود
لاکھ بہتر ہے قدر و قیمت میں
فیصلے ہو رہے ہیں اور کہیں
بحث ہوتی رہے عدالت میں
دیکھیے اور کتنے بک جائیں
کچھ اضافہ اگر ہو قیمت میں
خواہشوں کو لگام دیجے سؔیف
ورنہ ڈھل جائیں گی یہ حسرت میں