اثر اپنا دکھانا چاہتی ہے

اثر اپنا دکھانا چاہتی ہے
محبت ہے، تماشا چاہتی ہے
بجھاتی ہے نہ جلنے دے رہی ہے
چراغوں سے ہوا کیا چاہتی ہے؟
کوئی طوفاں اٹھا ائے جذبۂ دل!
طبیعت پھر سنبھلنا چاہتی ہے
میں اُس سے بات کرنا چاہتا ہوں
وہ مجھ سے شعر سننا چاہتی ہے
محبت کی کہانی مختصر ہے
مگر دنیا فسانا چاہتی ہے
یہ طوفانی ہوائیں کہہ رہی ہیں
کوئی کشتی کنارا چاہتی ہے