تیری آہٹ کبھی آئے کبھی خوشبو آئے

تیری آہٹ کبھی آئے کبھی خوشبو آئے
دل یہ کہتا ہے مرے دوست کہ اب تُو آئے
نام وہ لوں تو معطر ہوں فضائیں ساری
اور لکھوں تو ہر اک حرف سے خوشبو آئے
ہم کہ پارس تھے سو گمنام سا پتھر ہی رہے
وہ چمکنے لگے لیکن جنھیں ہم چھو آئے
گہرے پانی میں تو تنِکے کا سہارا بھی نہ تھا
ہاتھ کتنے ہی بڑھے ہم جو لبِ جو آئے
رات کاٹی تو نہ تھی صرف اجالے کے لئے
صبح آئی ہے تو کچھ صبح کی خُو بُو آئے
وہ خد و خا ل بھی یکبارگی یاد آ نہ سکے
کبھی عارض، کبھی آنکھیں ، کبھی گیسو آئے
دامنِ گُل تو جلایا ہے مگر دیکھنا ہے
آتشِ گل پہ اگر آپ کو قابو آئے
یوں تری بھولی ہوئی یاد چلی آتی ہے
شہر میں جیسے بھٹکتا ہوا آہو آئے
ان سلگتے ہوئے حالات میں کہتا ہوں غزل
کیا تعجب ہے جو لہجے پہ نہ قابو آئے
سیؔف! یہ ذکرِ احادیثِ زمانہ کب تک
اپنے غم کا بھی کبھی بات میں پہلو آئے