سبھی کو راس بھی آتی نہیں ہے

سبھی کو راس بھی آتی نہیں ہے
مگر دنیا کسے بھاتی نہیں ہے
نیا کوئی سخن ایجاد کیجے
غزل اب دل کو بہلاتی نہیں ہے
تواضع ، عاجزی اپنی جگہ ہیں
محبت ہاتھ پھیلاتی نہیں ہے
کوئی ہے خواب کی تعبیر میں گُم
کسی کو نیند ہی آتی نہیں ہے
انا کی ڈور جب تک کٹ نہ جائے
زمیں پر لوٹ کر آتی نہیں ہے
بچا کیا ہے تباہی میں ہماری
قیامت کیوں گزر جاتی نہیں ہے
حسیں ہے، با وفا ہے، مہرباں ہے
مگر وہ شخص جذباتی نہیں ہے
محبت کی طرح ہے شاعری بھی
یہ ہو جاتی ہے، کی جاتی نہیں ہے
یہ محرومی نہیں تو اور کیا ہے
اب اُس کی یاد بھی آتی نہیں ہے
زمیں کتنی ہی اونچی ہو نہ جائے
فلک سے پھر بھی ٹکراتی نہیں ہے
چلیں گے ایک ہی رخ پر کہاں تک
سڑک بھی اب تو بل کھاتی نہیں ہے
وہ جس امید پر قائم ہے دنیا
وہی امید بر آتی نہیں ہے
یہ سستی شاعری کا دور ہے سیؔف
سمجھ میں بات کیوں آتی نہیں ہے!