صبح تازہ آئے گی منظر نیا ہو جائے گا

صبحِ تازہ آئے گی منظر نیا ہو جائے گا
ہاں! مگر جب تک نہ جانے کیا سے کیا ہو جائے گا
یا تو واپس لوٹ آؤ یا پھر اپنی راہ لو
ایسے مڑ مڑ کر نہ دیکھو، حادثہ ہو جائے گا
اب اگر جینا پڑے گا اُس کی یادوں کے بغیر
جان جائے گی ہماری، اور کیا ہو جائے گا
ساتھ چلتے چلتے ٹھٹکے تھے ذرا میرے قدم
کیا خبر تھی ہم میں اتنا فاصلہ ہو جائے گا
اس لیے چرچا نہیں کرتے غزل میں حسن کا
ذکر اُس جانِ غزل کا جابجا ہو جائے گا
آج ہم ہیں کل ہماری یاد ہوگی دوستو!
رفتہ رفتہ یہ تعلق بھی فنا ہو جائے گا
سیؔف! تم غؔالب نہیں ہو، وقت پر کر لو علاج
درد جب حد سے بڑھے گا، لادوا ہو جائے گا