نعت - وفورِ عشق نے اظہار کی جب التجا کی ہے

وفورِ عشق نے اظہار کی جب التجا کی ہے
قلم نے سر جھکا کر مدحتِ خیرالوریٰؐ کی ہے
محمدؐ بھی ہیں وہ محمودؐ بھی ہیں اور احمدؐ بھی
خدا کے بعد سب تعریف محبوبِ خدا کی ہے
فرشتوں کے فرشتے بھی نہ سمجھے، آپ ہم کیا ہیں
خدا ہی جانتا ہے کیا حقیقت مصطفےٰؐ کی ہے
وجودِ آب و گِل سے پیشتر تخلیق ہو جس کی
میں کس منہ سے کہوں وہ پیکرِ انوار، خاکی ہے
وہ ربّ العالمیں، یہ رحمت اللعالمیں ہیں سیؔف
وہاں رحمت ہے آقاؐ کی جہاں قدرت خدا کی ہے