دل کے اک داؤ میں سب کچھ جو نہ ہارے ہوتے

دل کے اک داؤ میں سب کچھ جو نہ ہارے ہوتے
زندگی ہم نے ترے قرض اتارے ہوتے
نہ مخالف کوئی ہوتا نہ تصادم نہ تضاد
ہم اگر اپنے اصولوں کے نہ مارے ہوتے
ہم نے ہی اونچی اڑانوں کا سفر ترک کیا
ورنہ قدموں کے تلے چاند ستارے ہوتے
زندگی بانٹ نہ دیتی جو ہمیں خانوں میں
ہم تمہارے بخدا! سارے کے سارے ہوتے
خوش امیدی کا بھلا ہو کہ جیے جاتے ہیں
ورنہ جیتے نہیں، دن رات گزارے ہوتے
ہم کہ ناواقفِ آدابِ وفا تھے ورنہ
دل پہ جو وار ہوئے، اور کرارے ہوتے
اب وہی دل میں اترنے لگے رفتہ رفتہ
جو نظر میں نہ سماتے تھے تمہارے ہوتے
چند لمحے بھی جو مِل جاتے جنہیں اپنا کہیں
ہم نے وہ لمحے کئی بار گزارے ہوتے
ہے شکایت تو بجا سیؔف! مگر کیا کیجے
ہم جو اپنے نہ ہوئے کیسے تمہارے ہوتے