وقت کی آنچ میں ہر لحظہ پگھلتے رہنا

وقت کی آنچ میں ہر لحظہ پگھلتے رہنا
کبھی لہجہ کبھی آواز بدلتے رہنا
کھیل ہی کھیل میں اک آگ لگانا دل میں
اور پھر آپ ہی اس آگ میں جلتے رہنا
بزمِ امکاں میں ابھی اہلِ رَجا بیٹھے ہیں
شمعِ امید سے کہہ دو یونہی جلتے رہنا
کب سفر عمر کا آسان رہا ہے لیکن
جان لے لیتا ہے بے سَمت کا چلتے رہنا
اُن کی قسمت میں یہی ہے وہ ہوں عاشق کہ عوام
کبھی خوابوں کبھی وعدوں سے بہلتے رہنا
ہمسفر! اب کے یہی شرطِ سفر ٹھہری ہے
"پاؤں جل جائیں مگر آگ پے چلتے رہنا"
جو بھی ہونا ہے وہ ہوکر ہی رہے گا اے دل!
کس لیے پھر یہ شب و روز دہلتے رہنا
وضعداری نے ہمیں باندھ کے رکھا ہے سؔیف
ورنہ دشوار نہ تھا رنگ بدلتے رہنا