نئے دَور کی نظر نے نئے زاویے بنائے

نئے دَور کی نظر نے نئے زاویے بنائے
جہاں گھٹ رہے ہیں پیکر وہیں بڑھ رہے ہیں سائے
کبھی بے سبب ہی وحشت کبھی بے طلب ہی راحت
یہ نہیں اگر گوارا کوئی دل ہی کیوں لگائے
مری یاد ہے یہ ناداں! کوئی شئے نہیں کہ جس کو
کہیں بھول کر تُو رکھ دے کہیں رکھ کے بھول جائے
ہمیں بے نشان رستوں کے سفر کا سامنا ہے
جسے خوفِ گمرہی ہو وہ یہیں سے لوٹ جائے
کہیں مانگ لوں نہ اُس سے میں حساب روز و شب کا
اسی خوف سے گزرتی ہے حیات منہ چھپائے
میں کروں تو کس سے شکوہ، میں گِلہ کروں تو کس کا
نہ تو آپ غیر ٹھہرے نہ یہ زخم ہی پرائے
ترے عیش ہوتے ائے دل جو یہ اختیار ہوتا
جسے چاہے یاد رکھے جسے چاہے بھول جائے
ہوا بے نیازِ منزل تو رہا سفر نہ مشکل
نہ تو خوف گمرہی کا نہ قدم ہی ڈگمگائے
یہ کوئی نہ سؔیف جانا کہ تُو مست ہے یا پیاسا
کبھی ہونٹ تیرے سوکھے نہ قدم ہی لڑکھڑائے