برہم ہوئی بہار تو اظہار کر گئی

برہم ہوئی بہار تو اظہار کر گئی
دیکھا جو انتشار، چمن سے گزر گئی
بے اعتباریوں کا دھواں جب سے چھا گیا
شام و سحر سے رونقِ شام و سحر گئی
کرتا ہے مصلحت سے مری وقت یہ سوال
سر رکھ کے کیا کرو گے جو دستار اتر گئی
اُٹھا ہے سیلِ حق طلَباں حق کے واسطے
ندّی نہیں ہے یہ جو چڑھی اور اتر گئی
لغزش کسی نے کی ہو خطاوار کوئی ہو
ہر تہمتِ گناہ ہمارے ہی سر گئی
گھر بار، مال و زر جو گئے کچھ نہیں گیا
سب کچھ گیا حمیتِ قومی اگر گئی
صدیوں چلے تو آئے تھے منزل کے کچھ نشاں
اک لغزشِ قدم انھیں پامال کر گئی