لب ہیں خاموش، بے نَوا تو نہیں

لب ہیں خاموش، بے نَوا تو نہیں
خامُشی ترکِ مدعا تو نہیں
کل یہ پھر میرا ہم نوا ہوگا
وقت بے حس ہے بے وفا تو نہیں
زندگی مہربان لگتی ہے
یہ بھی اس کی کوئی ادا تو نہیں
اپنی خودداریوں پہ سمجھوتہ!
ہو بھی سکتا تھا ، پر ہوا تو نہیں
میں بھی ٹوٹا ہوں میں بھی بکھرا ہوں
نام تیرا مگر لیا تو نہیں
کیوں کروں میں غمِ جہاں کا حساب
عشرتوں کا کبھی کیا تو نہیں
ہے یہ منزل تو ہو، مگر ائے دل!
حوصلے کی یہ انتہا تو نہیں
کیا یہ تصویر بھی اُسی کی ہے؟
ہوگی! اب یاد کچھ رہا تو نہیں