حالات کہہ رہے ہیں یہ جنت نشان کے

حالات کہہ رہے ہیں یہ جنت نشان کے
اٹھو کہ سر پہ آگئے دن امتحان کے
اک کم نظر کے ہاتھ ہے گلشن کا انتظام
منصب سے آشنا نہیں جو باغبان کے
پھولوں کو حکم ہے کہ یہ آئین ہے نیا
ثابت کرو کہ تم ہو اِسی گلسِتان کے
اک تہلَکہ سا مچ گیا ہر کُنجِ باغ میں
سائے طویل ہو گئے خوف و گمان کے
اک سَمت احتجاج تو اک سَمت اضطراب
بے چینیوں نے چھوئے قدم آسمان کے
گُل نے کہا کہ تُو تو ہمیں جانتا ہی ہے
صدیوں سے ہم مکین ہیں اس بوستان کے
سب سے کیا ہے پیار، نباہا سبھی سے ہے
ہیں خار بھی گواہ ہمارے بیان کے
کم کم ہیں پھر بھی ہم پہ بہاروں کو ناز ہے
باعث ہیں تیری آن کے، گلشن کی شان کے
طوفان کتنے آئے گئے، ہم یہیں رہے
در تو کھلے تھے اور بھی ہم پر جہان کے
رنگِ چمن میں تاب ہمارے ہی دم سے ہے
اب اور کیا ثبوت دیں اپنے نشان کے
گِنتی میں کم ضرور ہیں ، کم حوصلہ نہیں
دھوکہ نہ کھائیو ہمیں کمزور جان کے
آئے گی فیصلے کی گھڑی جب سروں پہ سؔیف
دیکھے گا وقت حوصلے درماندگان کے