یونہی پلکوں پہ کوئی خواب نہ پالا ہم نے

یونہی پلکوں پہ کوئی خواب نہ پالا ہم نے
جو بھی دیکھا اُسے تعبیر میں ڈھالا ہم نے
حرف روشن ہوئے، الفاظ سے خوشبو آئی
رکھ دیا شعر میں جب تیرا حوالہ ہم نے
حال بے حال رہے پھر بھی رہا پاسِ وضع
شانِ رفتہ کو بہ ہر حال سنبھالا ہم نے
نئی شمعیں نہ جلائیں مگر اتنا تو کیا
کم نہ ہونے دیا محفل کا اجالا ہم نے
آج پھر کل کی طرح تازہ مسائل کا ہجوم
کل کی مانند اُسے آج بھی ٹالا ہم نے
عشق، احساس، وفا، سوز، تمنا، حسرت
کونسا روگ ہے جو دل میں نہ پالا ہم نے
بات بڑھ جاتی اگر وقت کو دے دیتے جواب
اس لیے اس کے سوالات کو ٹالا ہم نے
پھر ستانے لگی تشہیرِ وفا کی خواہش
جذبۂ عشق کو پھر شعر میں ڈھالا ہم نے
بے قراری سے تو اب جان کا رشتہ ہے سؔیف
دل سے دشمن کو جو آغوش میں پالا ہم نے