رہگزاروں میں جلے، طاق کی زینت نہ بنے

آسمانوں سے کہیں اونچی اڑانیں ہیں مگر
خود کی پرواز پہ خود ہم کو گماں تو کیا
میں جو خاموش رہا، درد کی حد تھی "ساحر"
آرزوؤں کو وفا کا آسماں تو کیا