دیکھتے ہی دیکھتے ائے دوست یہ کیا ہوگیا

دیکھتے ہی دیکھتے ائے دوست یہ کیا ہوگیا
کل جو اپنا تھا ، وہی اب تیرا میرا ہوگیا
پوچھتے یوں ہیں کہ حالت اور ہوجاتی ہے غیر
دوستوں سے کوئی کہہ دے اب میں اچھا ہو گیا
نکتہ چینی، رد و کد، حجت مری ہر بات پر
کچھ دنوں ایسا رہا، پھر وہ بھی مجھ سا ہو گیا
زندگی کے کھیل میں شامل تو ہم بھی تھے مگر
اپنی باری آتے آتے وقت پورا ہوگیا
ہے گریباں چاک کوئی اور کوئی تیشہ بکف
یوں بنامِ وحشتِ دل عشق رسوا ہوگیا
کیا کہا! اب یاد بھی میری اُسے آتی نہیں؟
یعنی جو اَب تک جدا تھا، آج تنہا ہوگیا
ایک مصرع ہی فؔراق و فؔیض سا کہہ لیتے سؔیف
شعر کہتے کہتے تم کو اک زمانہ ہو گیا