ویسے تو سامنے سے زمانہ گزر گیا

ویسے تو سامنے سے زمانہ گزر گیا
بیٹھے تھے جس کی آس میں وہ پَل کدھر گیا
لے ڈوبی ہم کو عقل تو ساحل پہ رہ گئے
دیوانہ لے کے نامِ خدا پار اتر گیا
اب ہنس پڑے ہیں تنگئ دامن کو دیکھ کر
کل تک یہ رنج تھا کہ دُعا سے اثر گیا
منزل کی جستجو میں گزاری تمام عمر
منزل ملی تو غم ہے کہ لطفِ سفر گیا
ویسے تو روکنے سے بھی رکتا نہیں ہے وقت
آیا مگر جو ہم پہ تو اکثر ٹھہر گیا
اُس کے قرار اور مرے اعتبار کا
اک وقت تھا گواہ سو وہ بھی مُکر گیا
وہ دن میں خواب دیکھنا، راتوں میں جاگنا
یادش بخیر! عہدِ جوانی گزر گیا
ٹوٹا ہے جب سے جال فریبِ نگاہ کا
نظریں تلاش میں ہیں کہ منظر کدھر گیا
تھا جن کے دم قدم سے زمانے کا اعتبار
وہ لوگ جاچکے، وہ زمانہ گزر گیا
ایک آدھ شعر میں تھا ترا تذکرہ مگر
ساری غزل کا رنگِ تغزل نکھر گیا