ان کو آزمانے میں ہم نے جلدبازی کی

اُن کو آزمانے میں ہم نے جلدبازی کی
اپنا دل دُکھانے میں ہم نے جلدبازی کی
ابر دو گھڑی کا تھا، دھوپ عمر بھی کی ہے
سائباں کو ڈھانے میں ہم نے جلدبازی کی
معرکے دل و جاں کے شاید اور بھی ہوتے
کشتیاں جلانے میں ہم نے جلدبازی کی
بےشمار چہرے تھے، بے حساب یادیں تھیں
اک اُسے بھلانے میں ہم نے جلدبازی کی
رنج و غم سے بیگانے یونہی اور جی لیتے
دل کو دل بنانے میں ہم نے جلدبازی کی
انتظار کرنا تھا، انتظار کرلیتے
ٹوٹ پھوٹ جانے میں ہم نے جلدبازی کی
تھی بساطِ جاں پر وہ دل کی آخری بازی
جس کو ہار جانے میں ہم نے جلدبازی کی
قرض اور بھی تو تھے، اور بھی تقاضے تھے
قرضِ جاں چکانے میں ہم نے جلدبازی کی
دستکیں اگر دی تھیں اک ذرا ٹھہر جاتے
کیوں پلٹ کے آنے میں ہم نے جلدبازی کی
ادھ جلے سے جذبے ہیں، راکھ ہیں نہ کندن ہیں
غم کی لَو بجھانے میں ہم نے جلدبازی کی
رات ابھی تو باقی تھی خواب بھی ادھورا تھا
سؔیف! جاگ جانے میں ہم نے جلدبازی کی