اپنے شہکار کی تعمیر تو کرجاتا ہے

اپنے شہکار کی تعمیر تو کرجاتا ہے
پھر قلم ہونے مرا دستِ ہنر جاتا ہے
مختصر حالِ چمن یہ ہے کہ اب موسمِ گل
بے قرار آتا ہے، بادیدۂ تر جاتا ہے
مصلحت روکتی ہے اہلِ خرد کو جس سے
ایک دیوانہ اُسی کام کو کر جاتا ہے
وقت مرہم تو ہے، اِکسیر نہیں ہے نہ سہی
درد رہتا ہے رہے، زخم تو بھر جاتا ہے
لوگ خوش ہیں کہ نظر آگیا منزل کا نشاں
مجھ کو یہ رنج کہ اب لطفِ سفر جاتا ہے
شہر ویران اِدھر، دشت ہے آباد اُدھر
دیکھنا یہ ہے کہ دیوانہ کدھر جاتا ہے
کچھ تعلق بھی نہیں ترک تعلق بھی نہیں
ساتھ دنیا کے یونہی وقت گزر جاتا ہے
ایسے جاتا ہے کوئی بزمِ جہاں سے جیسے
قید سے چھوٹ کے قیدی کوئی گھر جاتا ہے
نارسا ہے نہ سبک سَیر مرا حرفِ دعا
عرش تک دیر سے جاتا ہے مگر جاتا ہے