نظر ہے محو ابھی دیکھنے دکھانے میں

نظر ہے محو ابھی دیکھنے دکھانے میں
لگے گی عمر نظر کو نظر بنانے میں
بھڑک نہ جائیں دوبارہ کہ سخت جان ہیں ہم
کوئی کسَر نہیں رکھنا ہمیں بجھانے میں
اُسی سے مانگ رہے ہیں علاجِ تیرہ شبی
وہ جس کی عمر کٹی بستیاں جلانے میں
ہمارا ذکر ہے مبہم بھی مختصر بھی مگر
ہمیں سے جان ہے ہستی کے ہر فسانے میں
اگر میں تیرا نہیں ہوں تو آزمانا کیا
مگر جو ہوں، تو رکھا کیا ہے آزمانے میں
ہر ایک گام پہ کیوں لڑکھڑا رہی ہے حیات
ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملانے میں
خیالِ دشت نوردی نہ فرصتِ وحشت
دِوانے لگ گئے سب فکرِ آب و دانے میں
ابھی سے قول کا اُس کے نہ اعتبار کرو
ابھی ہیں ہوش کے آثار کچھ دِوانے میں
میں ایسے دَور کو کیوں دورِ ناسپاس کہوں
ملی ہے داد مجھے سؔیف جس زمانے میں