اپنی آنکھوں میں کسی خواب کا منظر رکھنا

اپنی آنکھوں میں کسی خواب کا منظر رکھنا
پھر اُسے سب کی نگاہوں سے بچا کر رکھنا
لاکھ رنجش ہو تعلق کو بنا کر رکھنا
روز ملنا نہ سہی، رابطہ اکثر رکھنا
صحن کے بیچ میں دیوار ضروری ہو اگر
ایسا کرلینا کہ دیوار میں اک در رکھنا
اِتنا آسان نہیں جتنا سمجھتے ہیں لوگ
خشک آنکھوں میں سمندر کو چھپا کر رکھنا
اب اسی شرط پہ جینے کی اجازت ہے ہمیں
قتل بھی ہونا اور الزام بھی خود پر رکھنا
دشمنی میں بھی ہمارے ہیں کچھ آداب و اصول
وار پیچھے سے نہیں ہوگا یہ لکھ کر رکھنا
اوڑھ کر چادرِ احساس جو رہتے ہو سیؔف
گھر سے نکلو تو اسے گھر کے ہی اندر رکھنا