پہلے نوچے گئے بال و پر

پہلے نوچے گئے بال و پر
پھر مِلا ہم کو حکمِ سفر
کر کے کانٹوں سے صرفِ نظر
پھول چنتے رہے عمر بھر
پتھروں کا اگر خوف تھا
پھر تو رہتے یونہی بےثمر
صبح کے منتظر سو گئے
جب قریب آگئی تھی سحر
لطف آتا ہے ٹکراؤ میں
ہو مخالف اگر معتبر
کچھ تو احباب تھے تاک میں
اور کچھ ہم رہے بے خبر
ایک پل تھا ترا التفات
خواب دیکھے گئے عمر بھر
بانٹ کر سب میں لطف و کرم
ہم سے کہنے لگے صبر کر!
وقت ٹھہرا ہوا ہے وہیں
تم گئے تھے جہاں چھوڑ کر
جس میں تابِ نظارہ نہ ہو
کیا کریں لے کے ایسی نظر
سیؔف اسیرانِ شب کے لیے
کیا سحر، کیا دلیلِ سحر