وہ تعلق جو بِلا شرط نبھایا جائے

وہ تعلق جو بِلا شرط نبھایا جائے
اُس تعلق کو سر آنکھوں پہ بٹھایا جائے
زخمِ دل ہم نے دکھانا نہیں چاہا ورنہ
یہ کوئی عیب نہیں ہے جو چھُپایا جائے
گرنے والے کو اٹھانا بھی ہے نیکی لیکن
بات جب ہے اُسے گرنے سے بچایا جائے
بیٹھنا اگلی صفوں میں تو ذرا دھیان رہے
آپ کو اپنی جگہ سے نہ اٹھایا جائے
فیصلہ ترکِ تعلق کا ہوا ہے لیکن
یہ کوئی عہد نہیں ہے جو نبھایا جائے
خوابِ غفلت سے کہیں جاگ نہ جائیں ہم لوگ
اک حسیں خواب ہمیں اور دکھایا جائے
اک نیا مسئلہ درپیش ہے، اور وہ یہ ہے
ذہن کو کیسے مسائل سے ہٹایا جائے
دل کا ملنا تو نصیبوں سے ہُوا کرتا ہے
کم سے کم ہاتھ کھلے دل سے ملایا جائے
چائے تو چائے ہے ہم زہر بھی پی لیں گے سؔیف
شرط یہ ہے کہ محبت سے پِلایا جائے