بہت سی پی گیا لیکن ابھی بھی پیاس ہے باقی

بہت سی پی گیا لیکن ابھی بھی پیاس ہے باقی
مرا ساقی کرم فرما ہے میری آس ہے باقی
گِراں گزری مری موجودگی احباب پر، یعنی
مرے ہونے نہ ہونے کا اُنہیں احساس ہے باقی
بُلاؤ میرے قاتل کو ، ادھورا کام چھوڑا ہے
ابھی کچھ دل دھڑکتا ہے ابھی کچھ آس ہے باقی
سبب جو ٹیس کا پوچھا تو بولے چارہ گر میرے
نکالے تیر سب ہم نے، کوئی احساس ہے باقی
بہت کچھ ہم بھی کہہ دیں سؔیف اگر کہنے پہ آجائیں
مگر چُپ ہیں تمہاری آبرو کا پاس ہے باقی