کیسے کہوں کہ اب کوئی حاجت نہیں رہی

کیسے کہوں کہ اب کوئی حاجت نہیں رہی
دنیا ملی تو درد کی دولت نہیں رہی
اُن کا بھی اٹھ گیا ہے یقیں اپنے عہد سے
ہم کو بھی اعتبار کی عادت نہیں رہی
لکھا ہوا تھا وقت کے ماتھے پہ "معذرت"
کچھ پوچھنے کی ہم کو ضرورت نہیں رہی
پہلے تو احتجاج کیا قتلِ عام پر
خود بچ گئے تو کوئی شکایت نہیں رہی
کل وقت آ پڑا تو ھمیٖں ہوں گے پیش پیش
مانا ہماری آج ضرورت نہیں رہی
ترکِ گناہ کا ہمیں آیا بھی کب خیال
جبکہ گناہ میں کوئی لذت نہیں رہی
تیرے لبوں پہ کوئی شکایت نہیں ہےسؔیف!
کیا اب تجھے کسی سے محبت نہیں رہی؟