چل دے کہیں نہ وہ بھی مخالف ہوا کے ساتھ

چل دےکہیں نہ وہ بھی مخالف ہوا کے ساتھ
لازم ہے اپنے لوگ رہیں ناخدا کے ساتھ
دو گام چل کے راہِ طلب سے پلٹ گئے
جاتے بھی کتنی دور ہم اپنی انا کے ساتھ
یہ میری خامُشی ہی دلیلِ شکست ہے
دل آئنہ نہیں ہے جو ٹوٹے صدا کے ساتھ
ہے آبرو اسی میں کہ ثابت قدم رہو
یا تو دیے کے ساتھ رہو یا ہوا کے ساتھ
یہ شاعری ہے دوست کوئی دل لگی نہیں
جوشِ جنوں بھی چاہیے فکرِ رسا کے ساتھ
آیا نہیں غزل میں کسی بے وفا کا ذکر
اچھی گزر رہی ہے جو اک با وفا کے ساتھ
اے عرش اب تو بندۂ عاجز کی لاج رکھ
اٹھی ہے دل سے آہ بھی دستِ دعا کے ساتھ
بازار سے خرید کے لے آئیں یار دوست
اکرام بھی ملے جو عبا و قبا کے ساتھ
دنیا کو بے وفا تو کہے جا رہے ہو سؔیف
دیکھے گئے ہیں آپ اُسی بے وفا کے ساتھ