کھُلی جو آنکھ تو نوکِ پلک پر آ ٹھہرا

کھُلی جو آنکھ تو نوکِ پلک پر آ ٹھہرا
شکستِ خواب کا احساس جابجا ٹھہرا
بغیر برسے سروں پر ہمارے ابرِ کرم
تمام عمر بھی ٹھہرا اگر تو کیا ٹھہرا
قبول کرلیا ناصح نے میرا عذر مگر
مرا ضمیر ہی میرے خلاف آ ٹھہرا
نہ چھوڑ دیتا فنِ آزری تو کیا کرتا
جو سنگ میں نے تراشا وہی خدا ٹھہرا
سروں پہ بیٹھ بھی جائے تو دھول، دھول رہے
مقام اس کا بہرحال زیرِ پا ٹھہرا
ہجومِ حرف میں صوت و صدا کی بھیڑ میں سؔیف
یہی بہت ہے کہ لہجہ ترا جُدا ٹھہرا