دل کو جو دکھ نہ دے ایسا کوئی منظر ہوتا

دل کو جو دکھ نہ دے ایسا کوئی منظر ہوتا
یا مرا دل نہیں ہوتا کوئی پتھر ہوتا
کاش چادر مری کچھ اور کشادہ ہوتی
یا مرا قد مری چادر کے برابر ہوتا
تھی اُدھر ضد تو اِدھر مدمقابل تھی انا
ورنہ دیوار جہاں پر ہے وہاں در ہوتا
درمیاں کی اِسی صورت نے مجھے مار دیا
بُت نہ ہوتا نہ سہی راہ کا پتھر ہوتا
ایک قطرہ تھا تو چاہا کہ میں دریا ہو جاؤں
آج دریا ہوں تو خواہش ہے سمندر ہوتا
دل کا وہ زخم تو ماضی کا حوالہ تھا سؔیف
وقت بھرتا نہ اگر اُس کو تو بہتر ہوتا